Talkshows4u

We bring you latest news from Pakistani Talk Shows

Talk Shows Alerts

Why PTI-backed independent Waseem Qadir joined PMLN? Arif Hameed Bhatti’s analysis

Why PTI-backed independent Waseem Qadir joined PMLN? Arif Hameed Bhatti’s analysis

Youtube

تحریک انصاف کے حمایت یافتہ  جیتنے والے آزاد امیدوار کس جماعت  میں شامل ہوں گے؟تحریک انصاف کے حمایت یافتہ وسیم قادر نے جیتنے کے بعد ن لیگ میں شمولیت کیوں اختیار کی؟ نواز شریف کی تقریر میں عمران خان کا ذکر کیوں نہیں؟عارف حمید بھٹی اور حبیب اکرم کا تجزیہ

انٹرو

پاکستان میں حال ہی میں منعقد ہونے والے انتخابات کے بعد سیاست نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔اگر انتخابات کے نتائج کی طرف دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری نتائج میں  تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں نے  93،پاکستان مسلم لیگ ن نے75 اور پیپلز پارٹی نے اب تک 54 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ان تنائج سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی ایک پارٹی بھی سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی اورنہ ہی  حکومت بنانے  کی پوزیشن میں ہے۔دوسری طرف سیاست کا محور اب آزاد امیدواروں کی طرف گھوم رہا ہے۔میڈیا پر چلنے والی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ اب تک 3سے زائد آزاد امیدواروں نے ن لیگ کو جوائن کر لیا ہے۔اب دیکھنا ہے باقی آزاد پرندے کس گھونسلے میں اپنا بسیرا کرتے ہیں۔۔

عارف حمید بھٹی کا تجزیہ

عارف حمید بھٹی کا شمار پاکستان کے نامی گرامی نیوز اینکر اور صحافیوں میں ہوتاہے۔آپ آجکل جی این این سے وابستہ ہیں۔ماضی میں پاکستان کے مشہور چینل اے آروائی پر بھی اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ان کا تجزیہ صحافتی حلقوں میں ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے ۔

‘ عارف حمید بھٹی نے جی این این کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے   ہمارے آج کے موضوع کہ ‘ جیتنے والے آزاد امیدوار تحریک انصاف میں شامل ہوں گے؟’ پر سیر حاصل بحث کی ہے۔پروگرام کے اینکر نے  این اے 121 سے جیتنے والے آزاد امیدوار وسیم قادر صاحب ،جنہوں نے روحیل اصغر صاحب کو ہرایا  تھا، کی ن لیگ میں شمولیت  کرنے پرسوال کیا تو جواب میں عار ف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ  ‘ہماری اطلاعات کے مطابق وسیم قادر صاحب  دو دن پہلے گھر سے لاپتہ تھے اور ان کے گھر والے ان کو تلاش کرتے رہے۔یہ پہلے بھی ن لیگ میں رہ چکے تھے۔’

عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ ن لیگ میثاق جمہوریت  کی بات کرتے ہیں ،اس ملک میں تو فقیر بھی چوروں اور لٹیروں کا مال نہیں لیتے لیکن آپ تو ایک بڑی جماعت  ہیں اور ایسی سیٹیں لے لیں جوکہ جعلسازی سے چھینی گئی ہوں اور وہ بھی دباؤ کے ذریعے۔یہ اخلاقی دیوالیہ پن کی نشانی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں ن لیگ الیکشن ہار چکی تھی لیکن بعد میں انہیں جتوایا گیا۔میں نے پاکستان میں بہت الیکشن کور کئے ہیں لیکن اس کی مثال نظر نہیں آتی۔کیا ایسے واقعات کے بعد یہ آئین اور میثاق جمہوریت کی بات کرسکتے ہیں۔

آج تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن میں مبینہ دھاندلی  کے خلاف ملک میں احتجاج کی کال بھی دی گئی تھی،کئی جگہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا بھی منظر دیکھنے کو ملا ۔اس بارہ میں عارف حمید بھٹی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور اسے یہ حق اس رعایت کے ساتھ استعمال کرنا چاہئے۔ ‘

حبیب اکرم کی رائے

‘پروگرام کےپہلے  حصے  میں پاکستان کے معزز صحافی حبیب اکرم  بھی موجود تھے ۔اینکر نے قائد مسلم لیگ ن نواز شریف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ نواز شریف نے الیکشن کے روز کی گئی اپنی تقریر میں آزاد امیدواروں کا نام تو لیا لیکن جس کے نام پر انہیں ووٹ ملے یعنی عمران خان ان کا نام نہیں لیا ،ایساکیوں کیاگیا؟۔اس کےجواب میں  حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ آزاد امیدواروں کے مینڈیٹ  کا تو اب سب کو  پتہ چل چکا ہے کہ کس کا تھا؟ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کا یہ وہی والا رویہ ہے جو  پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا 1970 میں دیکھا گیا تھا۔جب آپ ایسی بات کریں تو اس کے نتائج بھی اچھے نہیں نکلیں گے۔

عمران خان سے بات چیت کرنے کے حوالے سے  حبیب اکرم کا کہنا تھا  کہ سوال یہ ہے کہ عمران خان سے بات چیت  کرنے سے قبل پہلے یہ دیکھنا ہو گا کہ عمران خان کا کوئی ارادہ ہے  ان سے بات کرنے کا۔اب تک اگر دیکھیں تو زیادہ مینڈیٹ عمران خان اور ان کی جماعت کے پا س ہے۔’

نتیجہ

پاکستان کی سیاست آج کل بہت نازک اور اہم دور سے گزر رہی ہے اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ اس بار سیاست  اور حکومت کی یہ بازی کون سی پارٹی اپنے نام کرتی ہے۔

Watch More Latest News Here

Watch More Talk Shows Alerts Here

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *