Talkshows4u

Find the Power of Discussion with TalkShows4u

Latest News

Economic and Political Experts grilled Imran Khan on his letter to the IMF

Economic and Political Experts grilled Imran Khan on his letter to the IMF

پاکستان کی ہچکولے کھاتی معیشت کیلئے آئی ایم ایف پروگرام کتنا ضروری ہے یہ تو سب جانتے ہی ہیں لیکن اگر ایک اہم اور مقبول سیاسی جماعت کا لیڈر آئی ایم ایف کو خط لکھ دے  تو اس کے کیا اثرات آئیں گے یہ جاننا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔جی ہاں تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے آئی ایم ایف کو ایک خط لکھ ڈالا  کہ وہ قرض دینے سے قبل بعض ضروری اقدامات کو یقینی بنائے۔اس پر پاکستان میں معاشی ،سیاسی  اور صحافتی  حلقوں میں کیا بحثیں چل رہی ہیں،آج اس کاایک جائزہ پیش کیا جائے گا۔

مفتاح اسماعیل کی رائے

پاکستان کے سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا اس بارہ میں کہنا تھا کہ 2014 میں بھی دھرنے کے دوران عمران خان نے ورلڈ’ بینک اور آئی ایم ایف کو پاکستان کو قرض دینے سے  منع کیا تھا۔پھر ان کے وزیرخزانہ شوکت ترین نے بھی ایک خط لکھا تھا کہ صوبے  وہ پیسے نہیں دیں گے جس کا وفاق دعویٰ کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیشک عمران خان کے الیکشن کے بارہ میں تحفظات ہیں ،انہیں لیگل فورم پر پورا کریں لیکن آئی ایم ایف کو آڈٹ کرنے کا کہنا کسی طور درست نہیں یہ ان کا کام ہی نہیں ہے۔

مظہر عباس کا تجزیہ

مشہور صحافی مظہر عباس کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات ہے کہ تحریک انصاف اسمبلیوں میں واپس چلی گئی ہے لیکن اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ وہ اس خط سے آخر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ان کے اس خط کا براہ راست عام آدمی پراثر آئے گا۔ملک خدانخواستہ  ڈیفالٹ کی طرف جائے گا کیا عمران خان برداشت کریں گے کہ ملک ڈیفالٹ ہوجائے۔

محمل سرفراز کا ردعمل

عمران خان نے آئی ایم ایف کو جو خط لکھا ہے یہ قدم ٹھیک نہیں ہے۔خان صاحب نے پھر ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی فائدے کو ملک مفاد پر فوقیت دیتے ہیں جیسے انہوں نے دھرنے کےد وران کیا۔محمل سرفراز نے ایک دلچسپ نکتہ یہ اٹھایا کہ سائفر کو تو وہ بیرونی مداخلت کہہ رہے تھے لیکن آئی ایم ایف کو خط لکھنا کیا یہ ملکی معاملات میں مداخلت کے مترادف نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما مزمل اسلم کا تجزیہ

تحریک انصاف کے معاشی ترجمان مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حمایت کے بغیر آئی ایم ایف کا تین بلین ڈالر کا پروگرام کھڑا ہو ہی نہیں سکتا۔آخری قسط کے اجراء سے قبل بھی ان کی یہی شرط تھی اور ہم ان سے ملے۔ان کا کہنا تھا کہ نومبر یا دسمبر میں آئی ایم ایف ہم سے ہی صرف کیوں ملی ن لیگ سے کیوں نہ ملی؟

کیا ارشاد بھٹی بھی دوسرے تجزیہ نگاروں کی طرح سمجھتے ہیں یا نہیں؟

پاکستان کےابھرتے ہوئے صحافی ارشاد بھٹی  کا  جیو نیوز کے پروگرام رپورٹ کارڈ نشر شدہ 29فروری 2024 میں کہنا تھا  کہ  عمران خان کی ایسی باتوں کے حق میں کوئی نہیں بولے گا۔جیسا کہ انہوں نے سول نافرمانی کی تحریک چلائی۔شوکت ترین والے خط پر انہیں سزا مل جاتی تو کوئی ایسا کرنے کا دوبارہ نہ سوچتا۔یہ تو آئی ایم ایف کا مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔میرے خیال میں اس خط کا بانی تحریک انصاف کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔اگر آپ کی حکومت  کے دوران ن لیگ یا کوئی اور پارٹی ایسا خط لکھتی تو آپ کو کیسا لگتا۔

معاشی ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم   کی رائے

پاکستان کے معروف معاشی ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم صاحب نے آئی ایم ایف کو  خط لکھے جانےسے قبل  اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نظریہ آتا ہے کہ بانی تحریک انصاف اپنی غلطیوں سے  سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔دوسرا وہ واضح طور پر یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی ترجیح ان کی ذات ہے ملکی مفاد نہیں ہے۔کسی بھی قیمت پر وہ طاقت کا حصول چاہتے ہیں،چاہے اس کی قیمت 24کروڑ پاکستانی عوام ہی کیوں نہ ہو۔

شہباز شریف اور نواز شریف کی رائے

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما نواز شریف کا اس بارہ میں مختصر تبصرہ سامنے آتا ہے ان کا کہنا تھا کہ یہ خط وہی لکھ سکتے ہیں یہ ان کا وطیرہ ہے اور کوئی پارٹی یا کوئی شخص یا فرد ایسا شخص نہیں لکھ سکتا۔نامزد وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سائفر کے بعد یہ خط ملک دشمنی کا ایک اور ثبوت ہے یہ پاکستان کی تباہی چاہتےہیں۔’

نتیجہ

یقینا آپ سیاسی اور معاشی ماہرین کی رائے سے اتفاق کریں گے ۔اس وقت پاکستان کو آئی ایم ایف  پروگرام کی اشد ضرورت ہے۔اور ماہرین کی رائے کے مطابق آئی ایم ایف  کو لکھے گئے اس خط کا بانی تحریک انصاف کو کوئی فائد نہیں ہوگا۔

Watch More Talk Shows Alerts Here

Watch More Latest News Here

Top 5 Latest  News of the Day – Top Trending News

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *